ہو جائے حال اور سے کچھ اور حور کا
ہو جائے حال اور سے کچھ اور حور کا
دکھلا دوں میں ابھی جو مرقع حضور کا
پرتو فگن ہو گر رخ روشن حضور کا
موسیٰ کو یاد بھی نہ رہے نام طور کا
کوچہ میں اس حسیں کے یہ عالم ہے نور کا
جلوہ ہر ایک ذرہ میں ہے برق طور کا
جس عضو پر نگاہ پڑی رہ گئی وہیں
وہ دلربا تمام سراپا ہے نور کا
ممکن ہے تیری کنہ تلک جا سکے عقل
ہر ذرّہ اک جہان ہے تیرے ظہور کا
اپنے سوا نظر میں سماتا نہیں کوئی
اللہ رے دماغ کسی کے غرور کا
کس طرح آئیں ہوش میں ہم رند ساقیا
منہ سے لگا ہے جام شراب طہور کا
پردے میں وعظ کے ہے یہی ذکر روز و شب
اللہ ری شوق حضرت واعظ کو حور کا
جب بندے ہیں تو سر سے قدم تک خطا ہیں ہم
کرتے رہیں حساب کہاں تک حضور کا
شیطان کے حال سے نہیں واقف جہاں میں کون
یارو بہت بُرا ہے نتیجہ غرور کا
اکبرؔ فشار قبر سے کیا خوف ہو مجھے
پیرو ہوں میں حبیب خداے غفور کا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.