Font by Mehr Nastaliq Web

ہو جائے حال اور سے کچھ اور حور کا

شاہ اکبر داناپوری

ہو جائے حال اور سے کچھ اور حور کا

شاہ اکبر داناپوری

MORE BYشاہ اکبر داناپوری

    ہو جائے حال اور سے کچھ اور حور کا

    دکھلا دوں میں ابھی جو مرقع حضور کا

    پرتو فگن ہو گر رخ روشن حضور کا

    موسیٰ کو یاد بھی نہ رہے نام طور کا

    کوچہ میں اس حسیں کے یہ عالم ہے نور کا

    جلوہ ہر ایک ذرہ میں ہے برق طور کا

    جس عضو پر نگاہ پڑی رہ گئی وہیں

    وہ دلربا تمام سراپا ہے نور کا

    ممکن ہے تیری کنہ تلک جا سکے عقل

    ہر ذرّہ اک جہان ہے تیرے ظہور کا

    اپنے سوا نظر میں سماتا نہیں کوئی

    اللہ رے دماغ کسی کے غرور کا

    کس طرح آئیں ہوش میں ہم رند ساقیا

    منہ سے لگا ہے جام شراب طہور کا

    پردے میں وعظ کے ہے یہی ذکر روز و شب

    اللہ ری شوق حضرت واعظ کو حور کا

    جب بندے ہیں تو سر سے قدم تک خطا ہیں ہم

    کرتے رہیں حساب کہاں تک حضور کا

    شیطان کے حال سے نہیں واقف جہاں میں کون

    یارو بہت بُرا ہے نتیجہ غرور کا

    اکبرؔ فشار قبر سے کیا خوف ہو مجھے

    پیرو ہوں میں حبیب خداے غفور کا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے