وہ غیرتِ حوران جناں ہے جو مکیں آج
وہ غیرتِ حوران جناں ہے جو مکیں آج
فردوس سے بہتر ہے مدینہ کی زمیں آج
وہ ماہ ہوا انجمن آرائے زمیں آج
کیونکر نہ کرے رشک زمیں عرش بریں آج
جو فرش ہے وہ عرش ہوا عرش بنا فرش
کیا زیب دہ فرش ہے وہ عرش مکیں آج
بستان تقدس کا جو گل جلوہ فزا ہے
گلزار ہے کس لطف سے بطحا کی زمیں آج
ہر ذرہ سے آوازِ انا الشمس عیاں ہے
چمکا ہے جو وہ مہر مبیں ماہ جبیں آج
یہ سنگ تجلی سے بنا ہے جبل طور
کس شمع کے پر تو سے منور ہے زمیں آج
جس شمع شب افروز نے ہے جلوہ گری کی
تاریکی کا اصلا جو نشاں بھی ہے نہیں آج
اس زینت و شوکت سے کمر بستہ کھڑے ہیں
کہوارہ کی جنبانی کو جبرئیل امیں آج
گھر تیرا ہے کیا مطلع خورشید حلیمہ
آغوش میں تیرے جو ہے وہ ماہ جبیں آج
عشاق نثار اس کے ہیں ہر سمت سے عرفاںؔ
کس شان و تجمل سے ہے آیا وہ حسیں آج
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.