پرتو فگن اس دل میں ہے وہ ماہ جبیں آج
پرتو فگن اس دل میں ہے وہ ماہ جبیں آج
کیا مطلع خورشید ہے یہ جان حزیں آج
ہے سلطنتِ دشت مرے زیر نگیں آج
میں قیس کا البتہ ہوں سجادہ نشیں آج
ہے دل میں خیالِ صنمِ زہرہ جبیں آج
اک عمر پہ آیا ہے مکاں میں یہ مکیں آج
کھل جائے ابھی حال طلسماتِ جہاں کا
پردہ سے نکل آئے جو وہ پردہ نشیں آج
یہ کعبۂ دل اور خیالِ بت بے پیر
کس کا ہے مکاں اور ہے کون اس میں مکیں آج
دل پر ہے مرے نقش مگر نام کسی کا
کونین کی قیمت سے گر اں ہے یہ نگیں آج
اے حضرت دل کس سے ہوا وصل کا وعدہ
کیا ہے جو مزاج آپ کا ملتا ہی نہیں آج
شیشے میں اتارا ہے کسی رشک پری کو
اس دل میں نہیں عکس رخ زہرہ جبیں آج
گھس گھس کے مٹاؤں گا میں تقدیر کا لکھا
ہے سنگ در اس شوخ کا اور اپنی جبیں آج
پھر پیرہنِ یار کی بو آتی ہے مجھ کو
پھر یوسفِ ثانی مرا آیا ہے کہیں آج
میں دیدۂ مخمور سے ساقی کے ہوں سرشار
اے پیر مغاں مئے کی تمنا ہی نہیں آج
ہوں میں متلاشی حرم و دیر میں جس کا
عرفاںؔ نہ پتا اس کا وہاں ہے نہ یہاں آج
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.