خدا سے حبیبِ خدا چاہتا ہوں
خدا سے حبیبِ خدا چاہتا ہوں
میں اپنا دلی مدعا چاہتا ہوں
ترے در کا سائل ہوں کیا چاہتا ہوں
میں صدقہ ترے حسن کا چاہتا ہوں
میں بسمل ہوا تیغ ابرو سے تیرے
تڑپ کرکے اب جاں دیا چاہتا ہوں
مجھے ہو گئی سیر بقا اب تو حاصل
فنائے محمد ہوا چاہتا ہوں
مرا حسن دل کش میں دلدادہ اس پر
میں آپ اپنا عاشق ہوا چاہتا ہوں
ہے حق کی حضوریِ احمد
میں اس پردہ میں سامنے چاہتا ہوں
وہ نورِ قدم جلوہ فرما ہے دل میں
قمرؔ میں منور ہوا چاہتا ہوں
- کتاب : Malmoolat-e-Qamar (Pg. 17)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.