Font by Mehr Nastaliq Web

دل کا تو ہی قرار ہے آقا

شکیل نقشبندی

دل کا تو ہی قرار ہے آقا

شکیل نقشبندی

MORE BYشکیل نقشبندی

    دل کا تو ہی قرار ہے آقا

    تو ہی جانِ بہار ہے آقا

    تیرے طیبہ نگر کے کیا کہنے

    حسن کا شاہکار ہے آقا

    سائلِ در کو ناز ہے جس پر

    وہ ترا ہی دیار ہے آقا

    دشمنِ جاں کے واسطے بھی دعا

    یہ ترا ہی شعار ہے آقا

    دیکھ کر تیری سیرتِ طائف

    درد بھی اشک بار ہے آقا

    بات لفظوں سے کیا بنے میری

    جب عمل داغ دار ہے آقا

    عزتیں رب انہی کو دیتا ہے

    آپ سے جن کو پیار ہے آقا

    دیکھ کر آپ کی عطاؤں کو

    دل بہت شرمسار ہے آقا

    رب کا عاشق تجھے حبیب کرے

    حکمِ پروردگار ہے آقا

    تیری نظروں میں شوکتِ دنیا

    کس قدر بے وقار ہے آقا

    زیرِ نعلین پاک ذروں پر

    ہر بلندی نثار ہے آقا

    تیری تقلید اصل نورِ حیات

    باقی سب کچھ غبار ہے آقا

    نظرِ رحمت کریں غلاموں پر

    آپ کو اختیار ہے آقا

    ہو کسی شب شکیلؔ پر بھی کرم

    اس کو بھی انتظار ہے آقا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے