Font by Mehr Nastaliq Web

یادِ آقا میں آگئے آنسو

شکیل نقشبندی

یادِ آقا میں آگئے آنسو

شکیل نقشبندی

MORE BYشکیل نقشبندی

    یادِ آقا میں آگئے آنسو

    اپنی قسمت جگا گئے آنسو

    ان کی مدحت کا اک چراغ جلا

    اور شدت بڑھا گئے آنسو

    تشنگی جب بڑھی حضوری کی

    جامِ شفقت پلا گئے آنسو

    تھا بہت دور وہ درِ عالی

    پر یہ دوری مٹا گئے آنسو

    نامِ سرکار ہی لبوں پہ رہا

    باقی سب کچھ بھلا گئے آنسو

    ان کے ابرِ کرم کا ذکر ہوا

    ایک لمحے میں چھا گئے آنسو

    لفظ کب لائقِ سلامی تھے

    اصل رشتہ نبھا گئے آنسو

    ذکرِ سرکار پر بہیں کہ رکیں

    کیسی مشکل میں آگئے آنسو

    بزمِ سرکار میں چھلکنے لگے

    اور مرا سر جھکا گئے آنسو

    خود فریبی پہ گامزن تھا شکیلؔ

    سیدھے رستے چلا گئے آنسو

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے