Font by Mehr Nastaliq Web

کر رہے ہیں اِس جہاں میں جس کی ہم مدح و ثنا

شکیل نقشبندی

کر رہے ہیں اِس جہاں میں جس کی ہم مدح و ثنا

شکیل نقشبندی

MORE BYشکیل نقشبندی

    کر رہے ہیں اس جہاں میں جس کی ہم مدح و ثنا

    شافعِ روزِ جزا ہے وہ حبیبِ کبریا

    چہرہِ انور کے گر ہو روبرو ماہِ تمام

    وہ بھی اک سائل ہی لگتا ہے تمہارا دلربا

    تیری چشمانِ کرم میں جھانک لے گر زندگی

    پھر کہاں شکوے دکھوں کے پھر کہاں خوفِ قضا

    تیرے ابرو کے اشارے کی یہ کیسی شان ہے

    مال و دولت عقل و دانش سب ہوئے اس پر فدا

    تیرے لب ہائے مبارک گر ہلیں تو یوں لگے

    ہوگیا موسم سہانا جم کے برسے گی گھٹا

    تیرے دل میں گر خیال آجائے قبلہ اور ہو

    تیرے رب کا فیصلہ بھی یہ ہے ’’جو تیری رضا‘‘

    تیرا سینہ ہے امانت گاہِ ذاتِ کبریا

    مخزنِ علم و یقیں ہے مرکزِ صدق و صفا

    تیرے ہر اک لفظ پہ واری جبینِ علم ہے

    اس فصاحت اس بلاغت کا نہیں کوئی سرا

    رک گیا پاؤں کی ٹھوکر سے احد کا زلزلہ

    اب بھی لیکن کفر پہ لرزا ہے تیرے رعب کا

    تیرے اندازِ محبت کی جو پالے اک جھلک

    جانبِ دنیا قدم اس کے اٹھیں کیسے بھلا

    ہے تمہاری سوچ کی وسعت شہا اس اوج پر

    جس کے آگے عقل خم ہر فکر کا سر جھک گیا

    عجز تیرا ہے دہر میں ایک ایسا آستاں

    جس پہ ہر اک شوکت و سطوت کو جھکنا ہی پڑا

    خلق تیرے کی بدولت ہیں عدو بھی دم بخود

    حیرتوں میں گم رہے گی تا ابد خلقِ خدا

    تیرا ہر اک فیصلہ ہے آگہی کا بابِ نو

    بعد جس کے ہوگیا آغازِ دورِ ارتقا

    بزم تیری میں وقارِ خامشی محوِ درود

    ہے دلوں کی گفتگو میں نیتوں کی بس صدا

    تیری آمد پر کہا ہر اک جہاں نے جھوم کر

    یا نبی یا مصطفیٰ صد مرحبا صد مرحبا

    کیا ملے گا پڑھ کے دیکھو تو سہی ان پر درود

    پتھروں کے بدلے جو دیتے رہے سب کو دعا

    در نبی کا سائبانِ عفو و رحمت ہے شکیلؔ

    مل رہا ہے سب وہیں سے وہ مری کانِ عطا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے