Font by Mehr Nastaliq Web

شبِ معراج ہے کیا کچھ لٹایا جا رہا ہے

شکیل نقشبندی

شبِ معراج ہے کیا کچھ لٹایا جا رہا ہے

شکیل نقشبندی

MORE BYشکیل نقشبندی

    شبِ معراج ہے کیا کچھ لٹایا جا رہا ہے

    سفر کا ایک اک رستہ سجایا جا رہا ہے

    تمہاری شان کے صدقے امامِ قدسیاں سے

    قدم بوسی کرا کے پھر جگایا جا رہا ہے

    صفیں سیدھی ملائک کر رہے ہیں بہرِ عزت

    پروں کا فرش بھی اب تو بچھایا جا رہا ہے

    خدا کے حکم سے نبضِ زمانہ رک چکی ہے

    مکاں سے لامکاں تک ان کو لایا جا رہا ہے

    رسل کو انبیا کو قدسیوں کو عالمیں کو

    تری توقیر کا جلوہ کرایا جا رہا ہے

    کھلے گی نورِ آقا کی حقیقت آج کی شب

    یہ جبریلِ امیں کو بھی بتایا جا رہا ہے

    درودوں والے آقا آج گزریں گے ادھر سے

    یہ مژدہ عرشیوں کو بھی سنایا جا رہا ہے

    نبی کی شانِ محبوبی پہ ہر عظمت فدا ہے

    کہ قربِ ذات میں اب تو بلایا جا رہا ہے

    بڑے ہی ناز میں ہے کبریائی تیری خاطر

    ازل کے راز سے پردہ ہٹایا جا رہا ہے

    شکیلؔ ان کو خدا نے کیوں بھلا لوٹا دیا ہے

    سنا ہے اس جہاں کو پھر بسایا جا رہا ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے