Font by Mehr Nastaliq Web

مرے نبی نے درِ خدا پر سرِ خدائی جھکا دیا ہے

شکیل نقشبندی

مرے نبی نے درِ خدا پر سرِ خدائی جھکا دیا ہے

شکیل نقشبندی

MORE BYشکیل نقشبندی

    مرے نبی نے درِ خدا پر سرِ خدائی جھکا دیا ہے

    جمالِ سیرت سے حسنِ ربی زمانے بھر کو دکھا دیا ہے

    تمہارے عزمِ صمیم نے تو بدل دیا ہے جہاں کا نقشہ

    گرے ہوؤں کو کھڑا کیا ہے نظامِ باطل مٹا دیا ہے

    جو اپنی جانوں پہ ظلم کر لے درِ نبی پہ وہ توبہ کر لے

    کریم رب نے تو بخششوں کا یہ سیدھا رستہ بتا دیا ہے

    وہی ہے نوعِ بشر کا چارہ تمام نبیوں کا بھی سہارا

    کہ سب نے محشر میں یاوری کو اسی نبی کا پتا دیا ہے

    دلِ نبی کا گداز لوگو جہاں میں کس کی سمجھ میں آئے

    کہ اس کی چاہت کے سوز نے تو شجر ہجر کو رلا دیا ہے

    رہی نظر میں انہی کی صورت انہی کی مدحت انہی کی چاہت

    بلال کعبے کی چھت پہ بھی گر میرے نبی نے بٹھا دیا ہے

    کبھی سواری پہ بیٹھے آقا کبھی غلاموں کو بخشی عزت

    یہ کس کا منشورِ آگہی ہے جو سب کو ہمسر بنا دیا ہے

    شکیلِؔ بے کس بھی میرے آقا ہے اک سوالی تری عطا کا

    ترے کرم نے تو بھر کے کاسے جوابِ سائل سدا دیا ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے