جب بھی گھیرا ہے دکھوں نے تو ثنا خوانی کی
جب بھی گھیرا ہے دکھوں نے تو ثنا خوانی کی
بہرِ تسکین درودوں کی فراوانی کی
لاکھ پردوں میں ترا حسن چھپایا رب نے
کوئی بھی مثل نہیں پیکرِ نورانی کی
ان کی دہلیز سے ہے ربط اگر غم نہ کرو
اُن کے ہوتے ہوئے کیا بات پریشانی کی
جس سفینے پہ ترا اسمِ مبارک دیکھا
اُس کی طوفان نے خود آکے نگہبانی کی
سب سلاطینِ جہاں بول اٹھے حشر کے دن
ہائے افسوس کہ کیوں نہ تری دربانی کی
اک نظر ڈال دے اے شاہِ عرب منگتے پر
اور تصویر بدل دے مری ویرانی کی
اپنے آقا کی غلامی پہ سدا ناز رہے
آخرت میں بھی سند ہے یہی سلطانی کی
آپ کا پیارا ملا دولتِ کونین ملی
اب مجھے فکر کہاں بے سرو سامانی کی
دیکھ کر کیسے انوکھے ہیں فدائی تیرے
کفر تصویر بنا بیٹھا ہے حیرانی کی
رفعتِ نقشِ قدم ڈھونڈ سکے ناممکن
اتنی پرواز کہاں تختِ سلیمانی کی
ایسے مؤمن کے لیے قربِ نبی کی ہے نوید
تنگ دستوں کے لیے جس نے بھی آسانی کی
آپ سے پہلے تو بچھڑا رہا انساں رب سے
سجدہ ریزی کہاں قسمت میں تھی پیشانی کی
تیرے اصحاب کی تاریخِ بشر میں آقا
کوئی بھی مثل نہ مل پائے گی قربانی کی
دعویِٰ عشق نہ کرنا کبھی اشکوں کے عوض
تجھ سے لاکھوں نے شکیلؔ ایسی ہی نادانی کی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.