Font by Mehr Nastaliq Web

مرے جہان کی وسعت تری گلی تک ہے

شکیل نقشبندی

مرے جہان کی وسعت تری گلی تک ہے

شکیل نقشبندی

MORE BYشکیل نقشبندی

    مرے جہان کی وسعت تری گلی تک ہے

    صدائے درد و الم بس مرے نبی تک ہے

    بڑے وثوق سے تاریخ نے یہ لکھا ہے

    کہ عظمتوں کا سفر ان کی پیروی تک ہے

    اکیلے نکلے تھے غارِ حرا سے خالی ہاتھ

    جہانِ کفر کو دھڑکا مگر ابھی تک ہے

    نبی کے قرب کی منزل ابد ابد کی خوشی

    دکھوں کا سلسلہ دنیا کی زندگی تک ہے

    درِ حضور پہ علم و شعور گر نہ جھکے

    تو دسترس تری کیسے پھر آگہی تک ہے

    بچانا خود کو تکبر کی سب اداؤں سے

    یہ ان کی نظرِ کرم تیری عاجزی تک ہے

    کوئی نہ مفلسِ دنیا ہمیں کہے لوگو

    پہنچ ہماری بھی سب سے بڑے سخی تک ہے

    شکیلؔ نعتِ نبی ہو تو اس حضوری سے

    زمانہ یہ نہ کہے بات شاعری تک ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے