Font by Mehr Nastaliq Web

کبھی درد و سوز بن کر کبھی اشک بن کے آئے

شکیل نقشبندی

کبھی درد و سوز بن کر کبھی اشک بن کے آئے

شکیل نقشبندی

MORE BYشکیل نقشبندی

    کبھی درد و سوز بن کر کبھی اشک بن کے آئے

    تری مہربانیاں ہوں تو یہ دل قرار پائے

    تری یاد رونقِ جاں ترا ذکر روحِ ایماں

    یہی نور تیرگی میں مجھے راستہ دکھائے

    یہی کیف میرے اندر اسی زعم پہ ہوں نازاں

    میں جھکا ہوں تیرے در پہ مجھے کون اب جھکائے

    وہی جانِ عالمیں ہی مقصودِ زندگی ہیں

    دل میں کسی کی چاہت اب کس طرح سمائے

    ترے ذکر کی ہے برکت میرا گھر ہوا منور

    ہو نظر ترے کرم کی تو یہ دل بھی جگمگائے

    بن تیرے کون آقا ہے بے کسوں کا والی

    رحمت سے اپنی کہہ دو دکھ درد سب مٹائے

    اک سائلِ مدینہ میں تڑپ رہا ہوں کب سے

    ترے در پہ حاضری کا مژدہ کوئی سنائے

    مولیٰ شکیلؔ کو بھی سوز و ہنر عطا ہو

    نعتِ نبی سے یہ بھی دل کے دئیے جلائے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے