Font by Mehr Nastaliq Web

گدائے در ہیں کرم کے طالب حضورؐ ہم سے نبھائے رکھنا

شکیل نقشبندی

گدائے در ہیں کرم کے طالب حضورؐ ہم سے نبھائے رکھنا

شکیل نقشبندی

MORE BYشکیل نقشبندی

    گدائے در ہیں کرم کے طالب حضور ہم سے نبھائے رکھنا

    ہمیں غلامی کے راستوں پہ کریم آقا چلائے رکھنا

    بڑا سہارا ہے نام تیرا بڑے مسائل کا سامنا ہے

    ہمیشہ حالات کی تپش میں سروں پہ رحمت کے سائے رکھنا

    جبینِ عالم پہ سب سے پہلے مرے نبی نے یہی لکھا ہے

    چراغ ظلمت کے راستوں میں محبتوں کے جلائے رکھنا

    جو حاضری ہو بڑے ادب سے نظر جھکا کر لبوں کو سی کے

    تم آنسوئوں کو بھی چشمِ تر میں چھپائے رکھنا چھپائے رکھنا

    وہ جانتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ جان سے بھی قریب تر ہیں

    عطا کریں گے عطا کریں گے تم اپنا کاسہ بڑھائے رکھنا

    شکیلؔ قربِ نبی کی مد میں ادب کے رہبر بتا گئے ہیں

    جو سر کے بل چل سکو تو بہتر وگرنہ آنکھیں بچھائے رکھنا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے