Font by Mehr Nastaliq Web

سیرت حضور کی یہی مژدہ سنائے ہے

شکیل نقشبندی

سیرت حضور کی یہی مژدہ سنائے ہے

شکیل نقشبندی

MORE BYشکیل نقشبندی

    سیرت حضور کی یہی مژدہ سنائے ہے

    ہر رہگزر ہی شہرِ پیمبر کو جائے ہے

    قرآن کا ہے محور و مقصود ان کی ذات

    اور الفتِ حضور ہی رب سے ملائے ہے

    کیا معتبر ہے ذات تری کیا وقار ہے

    ربِ کریم بھی تری قسمیں اٹھائے ہے

    محشر میں اس شفاعتوں والے کی ہے تلاش

    ہر اِک وہاں حساب سے نظریں چرائے ہے

    سِدرہ سے آگے تیرے سفر کی ہے ابتدا

    جبریل بھی کھڑا یہاں سر کو جھکائے ہے

    ہر فردِ کائنات سے بڑھ کر ہو ان سے پیار

    ہے امتی وہی جو یہ رشتہ نبھائے ہے

    حکمِ نبی پہ ناز سے خوش ہوکے جھوم کے

    صدیقِ باوفا ہے جو سب کچھ لٹائے ہے

    اے حبشہ کے بلال ترے عشق کو سلام

    ہر اک اذاں میں سوز ترا جگمگائے ہے

    ایمان کی سلامتی دینا مرے خدا

    یہ دور دل سے یادِ پیمبر بھلائے ہے

    کہتی ہے بس شکیلؔ یہی خاکِ کربلا

    عشقِ خدائے مصطفیٰ کیا کیا کرائے ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے