جو تری یاد سے منور ہیں
جو تری یاد سے منور ہیں
دل وہ روحانیت کے پیکر ہیں
بخش اک قطرۂ ثنا آقا
تیرے اوصاف تو سمندر ہیں
جن پہ سب کچھ لٹایا جاتا ہے
وہی محبوبِ ہر پیمبر ہیں
سب حوالے بہارِ عالم کے
آپ کے حسن کے گداگر ہیں
بخششِ رب کی آپ ہیں میزاں
رحمتِ رب کے آپ محور ہیں
جن کی بھی نوکری قبول ہوئی
لاکھوں ان کی گلی کے چاکر ہیں
تیری ہمت کے آگے ہار گئے
فتنہ و شر کے جتنے لشکر ہیں
صرف دنیا کی مشکلوں میں نہیں
وہ مرے سائبانِ محشر ہیں
سوزِ دل ان کا کوئی کیا جانے
جن پہ پڑھتے درود پتھر ہیں
کتنے خوش بخت ہیں شکیلؔ سبھی
میرے آقا کے جو ثنا گر ہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.