Font by Mehr Nastaliq Web

جو تری یاد سے منور ہیں

شکیل نقشبندی

جو تری یاد سے منور ہیں

شکیل نقشبندی

MORE BYشکیل نقشبندی

    جو تری یاد سے منور ہیں

    دل وہ روحانیت کے پیکر ہیں

    بخش اک قطرۂ ثنا آقا

    تیرے اوصاف تو سمندر ہیں

    جن پہ سب کچھ لٹایا جاتا ہے

    وہی محبوبِ ہر پیمبر ہیں

    سب حوالے بہارِ عالم کے

    آپ کے حسن کے گداگر ہیں

    بخششِ رب کی آپ ہیں میزاں

    رحمتِ رب کے آپ محور ہیں

    جن کی بھی نوکری قبول ہوئی

    لاکھوں ان کی گلی کے چاکر ہیں

    تیری ہمت کے آگے ہار گئے

    فتنہ و شر کے جتنے لشکر ہیں

    صرف دنیا کی مشکلوں میں نہیں

    وہ مرے سائبانِ محشر ہیں

    سوزِ دل ان کا کوئی کیا جانے

    جن پہ پڑھتے درود پتھر ہیں

    کتنے خوش بخت ہیں شکیلؔ سبھی

    میرے آقا کے جو ثنا گر ہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے