Font by Mehr Nastaliq Web

ہر کڑے وقت میں لب پہ یہی نام آئے گا

شکیل نقشبندی

ہر کڑے وقت میں لب پہ یہی نام آئے گا

شکیل نقشبندی

MORE BYشکیل نقشبندی

    ہر کڑے وقت میں لب پہ یہی نام آئے گا

    میرے آقا کا وسیلہ مرے کام آئے گا

    ہم جو بھیجیں گے درود اور سلام آقا پر

    درِ اکرام سے بدلے میں سلام آئے گا

    تھام لے گی اسے سرکار کی رحمت بڑھ کر

    مرے آقا کے جو قدموں میں غلام آئے گا

    یہ تصور ہی معطر کیے رکھتا ہے مجھے

    درِ آقا پہ چلے آؤ پیام آئے گا

    ظلمتِ دہر روانہ ہے فنا کی جانب

    سرورِ دیں کے غلاموں کا نظام آئے گا

    پہلے عظمت مرے آقا کی بسا لو دل میں

    پھر سمجھ میں تمہیں اس رب کا کلام آئے گا

    خاکِ بطحیٰ کو مرے اشک سلامی دیں گے

    سوچتا رہتا ہوں کب ایسا مقام آئے گا

    سیرتِ شاہِ عرب پڑھ کے ذرا دیکھ شکیلؔ

    پختہ ہوگا ترا کردار دوام آئے گا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے