Font by Mehr Nastaliq Web

جنابِ شیرِ خدا کے قدموں میں سروری ہے

شکیل نقشبندی

جنابِ شیرِ خدا کے قدموں میں سروری ہے

شکیل نقشبندی

MORE BYشکیل نقشبندی

    جنابِ شیرِ خدا کے قدموں میں سروری ہے

    او ران کی چاہت مرے مقدر کی روشنی ہے

    درِ سخا سے علوم سارے ہی بٹ رہے ہیں

    ہر اک فراست یہاں مؤدب کھڑی ہوئی ہے

    یہ ان کی تلوار پر ازل سے لکھا ہوا ہے

    ترے مقابل ہر ایک طاقت کی بے بسی ہے

    خدائے واحد نے اپنے پردے ہٹا دئیے ہیں

    تمہارے سجدے بتا گئے ہیں یہ بندگی ہے

    جہاں میں کربل سا ظلم ہوتا کبھی نہ دیکھا

    ترے گھرانے کا شیوہ لیکن بہادری ہے

    تمہاری سیرت کے سرورق پر یہی لکھا ہے

    کہ حکمِ آقا کے بعد سب کچھ ہی ملتوی ہے

    جو نامِ مولیٰ علی کو سن کر نہ جھوم اٹھے

    یہ اس کے اندر کی مفلسی ہے یہ تیرگی ہے

    وہ جب کہیں گے شکیلؔ مانگو بس اتنا کہنا

    کہ میری حسرت ترے گداؤں کی نوکری ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے