Font by Mehr Nastaliq Web

سبطِ سرکارِ دوعالم کا کہاں ثانی ہے

شکیل نقشبندی

سبطِ سرکارِ دوعالم کا کہاں ثانی ہے

شکیل نقشبندی

MORE BYشکیل نقشبندی

    دلچسپ معلومات

    منقبت در شان حضرات حسنین کریمین۔

    سبطِ سرکارِ دوعالم کا کہاں ثانی ہے

    جیسا منصب ہے بڑا ویسی ہی قربانی ہے

    ایک اظہارِ فنا فی اللہ ہے سجدا تیرا

    منزلِ عشق تو آقا تری پیشانی ہے

    ہر حوالہ ہی ترا ایک سند ہے آقا

    ہر زمانہ ہی ترا عہدِ ثنا خوانی ہے

    آلِ اطہار کے خیمہ میں ہے بس نور ہی نور

    رخِ باطل پہ فقط وحشت و ویرانی ہے

    لشکرِ ظلم کو عبرت کا نشاں کر ڈالا

    تیرے کردار کی ہر دور میں سلطانی ہے

    سر کٹاتے ہیں بصد ناز وفا کے پیکر

    کیسا اخلاص ہے کیا جذبہِ ایمانی ہے

    گر حسینی ہو تو پھر دین سے دوری کیسی

    روحِ شبیر کو اس بات پہ حیرانی ہے

    عشق کب دائرۂ عقل میں آتا ہے شکیلؔ

    حق نے باطل کی کہاں آج تلک مانی ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے