سر زمینِ باؤلی فیضان ہی فیضان ہے
دلچسپ معلومات
منقبت در شان خواجہ خان عالم نقشبندی (باؤلی-گجرات)
سر زمینِ باؤلی فیضان ہی فیضان ہے
میرے خواجہ خانِ عالم کا نگر ذیشان ہے
مرکزِ انوار بحرِ عشق طورِ سالکاں
یہ درِ دولت تصوف آگہی عرفان ہے
بارگاہِ مصطفیٰ بس اک حوالہ آپ کا
بیعتِ عشق نبی ہی آپ کا عنوان ہے
نقشبندی فیض کے ابرِ کرم اتنا برس
دل کی کھیتی لہلہا اٹھے بہت ویران ہے
پست فہموں اور طلب گارانِ دنیا کو حضور
نسبتِ دربار دینا آپ کا احسان ہے
یہ رہے نازاں مری نسبت پہ مولیٰ بخش دے
آپ کہہ دیں روزِ محشر بس یہی ارمان ہے
کوئی کیا اندازہ کر سکتا ہے تیرے اوج کا
تیرے درویشوں پہ بھی چشمِ فلک حیران ہے
اے فنائے عشقِ آقا اے بقا کے راہبر
جو ترے قدموں میں آ جائے وہی سلطان ہے
استقامت ہو درود و ذکر اور اخلاص میں
خادمینِ باؤلی کو بس یہی فرمان ہے
اس شکیلِؔ نقشبندی پر عطائے خاص ہو
سائلِ در ہے تمہارا یہ بھی اک درباں ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.