Font by Mehr Nastaliq Web

میں پیرِ باولی کو بھلا کیسے داد دوں

شکیل نقشبندی

میں پیرِ باولی کو بھلا کیسے داد دوں

شکیل نقشبندی

MORE BYشکیل نقشبندی

    میں پیرِ باولی کو بھلا کیسے داد دوں

    میری بساط کیا میں تعارف میں کچھ کہوں

    مطلوب جن کا رب کی رضا اور بندگی

    عشق نبی ؐسے اِن کی عبارت ہے زندگی

    ہر راحتِ حیات کو بس دیں پہ واردیں

    پھر بھی خود احتسابی میں ہر وقت گم رہیں

    ہر لفظ نورِ معرفت ہر بات معتبر

    الفاظ ہیں کہ سوز میں لپٹے ہوئے گہر

    آقاؐ کے در کی چاکری ہے آنکھ کا خمار

    ہر ریشہِ وجود میں بستا ہے اُنؐ کا پیار

    ہاتھوں میں ہاتھ جب بھی کسی کو عطا کیا

    ایسا لگے کہ سارا کچھ اُس پہ لٹا دیا

    بیٹھے رہیں تو جسم مرا وجد میں رہے

    بولیں اگر تو روح کو اِک چین سا ملے

    یہ رونقیں جہان کی دُنیا کی چاہتیں

    اُن کے قدوم میں کبھی لغزش نہ لاسکیں

    ذکرِ خدائے پاک سے بس لو لگائی ہے

    یہ ذکر ہی تو زندگی بھر کی کمائی ہے

    وقفِ ثنائے رحمتِ عالم ہے اُن کی ذات

    آقاؐ کی نسبتوں سے ہے ہر نسبتِ حیات

    سجدے میں ہے جبین تو جذبے قیام میں

    کیفیتیں بیان ہوں کیسے کلام میں

    لب پہ دُعا ہے مولا مرے جو مجھے دیا

    میرے ہر ایک صاحبِ نسبت کو ہو عطا

    اب پائوں میں بھی روشنی اِس آفتاب سے

    نورِ شعور بھی ملے اِن کے نصاب سے

    نظروں میں مستقل رہوں رفعت نواز کی

    بیعت نصیب ہو مجھے اِن کے گداز کی

    گلشن یہ باولی کا ہمیشہ ہرا رہے

    کاسہ شکیلؔ فیض سے میرا بھرا رہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے