دل کی تسکیں کے لیے چھیڑئیے دلدار کی بات
دل کی تسکیں کے لیے چھیڑئیے دلدار کی بات
والضحیٰ روئے حسیں کی لب و رخسار کی بات
دیکھ کر تجھ کو زمانے نے ہے مانا رب کو
کس قدر ارفع و اعلیٰ ترے دیدار کی بات
آپ کا واسطہ دے کر جو پکارا رب کو
بن گئی بن گئی پھر مجھ سے گنہگار کی بات
اہلِ اسلام کو یورپ کا نہ منشور سنا
حاکمِ وقت کرو بس مری سرکار کی بات
اولاً ہم ہی کٹائیں گے ترے نام پہ سر
واہ کیا بات ہے آقا ترے انصار کی بات
روزِ محشر کا بھی سوچیں ذرا وہ دانش ور
دین کو چھوڑ کے کرتے ہیں جو اغیار کی بات
سارے اصحاب ہی انمول ہیں آقا تیرے
پر جداگانہ تھی صدیقِ وفادار کی بات
دست بستہ ہوا ہر حرف یہی کہہ کے شکیلؔ
کون کر سکتا ہے آقا ترے معیار کی بات
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.