Font by Mehr Nastaliq Web

دل کی تسکیں کے لیے چھیڑئیے دلدار کی بات

شکیل نقشبندی

دل کی تسکیں کے لیے چھیڑئیے دلدار کی بات

شکیل نقشبندی

MORE BYشکیل نقشبندی

    دل کی تسکیں کے لیے چھیڑئیے دلدار کی بات

    والضحیٰ روئے حسیں کی لب و رخسار کی بات

    دیکھ کر تجھ کو زمانے نے ہے مانا رب کو

    کس قدر ارفع و اعلیٰ ترے دیدار کی بات

    آپ کا واسطہ دے کر جو پکارا رب کو

    بن گئی بن گئی پھر مجھ سے گنہگار کی بات

    اہلِ اسلام کو یورپ کا نہ منشور سنا

    حاکمِ وقت کرو بس مری سرکار کی بات

    اولاً ہم ہی کٹائیں گے ترے نام پہ سر

    واہ کیا بات ہے آقا ترے انصار کی بات

    روزِ محشر کا بھی سوچیں ذرا وہ دانش ور

    دین کو چھوڑ کے کرتے ہیں جو اغیار کی بات

    سارے اصحاب ہی انمول ہیں آقا تیرے

    پر جداگانہ تھی صدیقِ وفادار کی بات

    دست بستہ ہوا ہر حرف یہی کہہ کے شکیلؔ

    کون کر سکتا ہے آقا ترے معیار کی بات

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے