Font by Mehr Nastaliq Web

مقبول نہ ہوں در پہ یہ امکاں تو نہیں ہے

شکیل نقشبندی

مقبول نہ ہوں در پہ یہ امکاں تو نہیں ہے

شکیل نقشبندی

MORE BYشکیل نقشبندی

    مقبول نہ ہوں در پہ یہ امکاں تو نہیں ہے

    پر لفظ کوئی آپ کے شایاں تو نہیں ہے

    اصحاب نے ہر چیز لٹا دی ہے نبی پر

    یہ عشق کا دعویٰ کوئی آساں تو نہیں ہے

    ہے نعت قدم بوسیِ سرکارِ دو عالم

    یہ حسنِ سخن کا کوئی میداں تو نہیں ہے

    یہ میرے درودوں میں کمی کس کے لیے آقا

    رحمت ترے رب کی کہیں نالاں تو نہیں ہے

    بے باک دلوں کو ہے توجہ تری درکار

    دنیا کے ہیں غم پر غمِ عصیاں تو نہیں ہے

    جو دینے سے پہلے مرے اطوار کو تولے

    ایسی مری سرکار کی میزاں تو نہیں ہے

    آقا تری سیرت کے یہ انوار عطا ہوں

    ہمسائے سے پوچھوں تو پریشاں تو نہیں ہے

    ہے قلبِ جہاں پر بھی سدا جس کی حکومت

    اس خلق کا حامل کوئی سلطاں تو نہیں ہے

    جو طعنہ زنی پاک صحابہ پہ ہے کرتا

    خود نجس ہے بدبخت وہ انساں تو نہیں ہے

    بیٹھا ہی رہے گا یہ شکیلؔ آپ کے در پر

    یہ رونقِ دنیا مرا ارماں تو نہیں ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے