پست بے انتہا ہے میرا شعور
پست بے انتہا ہے میرا شعور
زیرِ انوارِ نعت کتنے ہی طور
تیری مدحت کے ہر تخیل میں
روشنی روشنی ہے نور ہی نور
جب سے توفیقِ نعت مجھ کو ملی
جسم و جاں ہیں مرے بھی محوِ سرور
پردہ پوشی حضور نے کی ہے
پیشِ سرکار جب ہوئے ہیں قصور
میں نے نسلوں میں غلامی مانگی
مجھے اعزاز وہ بخشیں گے ضرور
کب میں ہر چیز تجھ پہ واروں گا
کب میں مؤمن بنوں گا میرے حضور
علمِ غیب ان کا کوئی کیا سمجھے
جب سواری کو بھی ہو کشفِ قبور
تیرا صدیق ہے وہ قلزمِ عشق
کر نہیں سکتا کوئی جس کو عبور
کتنی بارعب سادگی ہے تری
کتنا لاچار ہے یہاں پہ غرور
اشک میرے یہ کہہ رہے ہیں شکیلؔ
دل سے ہرگز نہیں مدینہ دور
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.