شبستانِ حرا میں آپ جب خلوت گزیں ٹھہرے
شبستانِ حرا میں آپ جب خلوت گزیں ٹھہرے
تو ذرے خاک کے افلاک پر مسند نشیں ٹھہرے
نقوشِ پا بتاتے ہیں مرے آقا و مولیٰ کے
زمیں کے رابطے آفاق سے آگے کہیں ٹھہرے
مکمل دین لے کر آ گئے جب سرورِ عالم
عدد میدان میں پھر ایک لمحہ بھی نہیں ٹھہرے
اگر ہو اذنِ آقا تو غلام آ جائے قدموں میں
اگر منطور فرمائیں عدم تک پھر وہیں ٹھہرے
بھلا اس سے بڑی سچائی شاکر اور کیا ہوگی
کہ آقا اپنے اعدا میں بھی صادق اور امیں ٹھہرے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.