Font by Mehr Nastaliq Web

میں نے شہرِ مدینہ دیکھا

شاکر القادری

میں نے شہرِ مدینہ دیکھا

شاکر القادری

MORE BYشاکر القادری

    میں نے شہرِ مدینہ دیکھا

    ایسے جیسے سپنا دیکھا

    رنگ و نور کی بارش دیکھی

    خوشبوؤں کا میلہ دیکھا

    سرسبز و شاداب تھا سورج

    سبز تھا چاند کا چہرہ دیکھا

    سبز بہاریں روح پہ اتریں

    جب بھی گنبدِ خضریٰ دیکھا

    رحمت کی اک سبز ردا کا

    کون و مکاں پر سایہ دیکھا

    سبز فلک پہ جگمگ جگمگ

    ایک سنہری تارا دیکھا

    جالی کے پیچھے کا منظر

    کیا بتلاؤں کیسا دیکھا

    جبرئیل نے جو دیکھا تھا

    میں نے بھی وہ تارا دیکھا

    ہر الجھن میں ہر مشکل میں

    راہ دکھانے والا دیکھا

    ہر اک آنکھ چھلکتی دیکھی

    ہر اک ہونٹ لرزتا دیکھا

    پلکوں پر تاروں کی صورت

    عصیاں کا کفارہ دیکھا

    آنکھوں کے آگے تھا منبر

    گویا خلد کا زینہ دیکھا

    اک جانب محرابِ تہجد

    اور اصحاب کا صفہ دیکھا

    جس کا عقد خدا نے باندھا

    اس جوڑے کا حجلہ دیکھا

    آپ کے قدموں کی جانب بھی

    جنت کا اک ٹکڑا دیکھا

    لختِ دلِ محبوبِ خدا کا

    اس جنت میں روضہ دیکھا

    اپنی اماں کے پہلو میں

    شبر کو آسودہ دیکھا

    گنجِ شہیدانِ حرہ کا

    اک جانب نظارا دیکھا

    ہر ذرے میں دھڑکن پائی

    ہر پتھر کو زندہ دیکھا

    ہر اک نقشِ درخشاں گویا

    ماضی کا آئینہ دیکھا

    تیر اندازوں کے ٹیلےسے

    جنگِ احد کا نقشہ دیکھا

    حضرت مصعب عبداللہ کو

    اس میدان میں سویا دیکھا

    حضرتِ حمزہ کی بالیں پر

    ایک کبوتر بیٹھا دیکھا

    سانسیں لیتا تھا ہر منظر

    ہر اک نقش روانہ دیکھا

    صبح کی انگڑائی بھی دیکھی

    شام کو کیف میں ڈوبا دیکھا

    میں نے شہر مدینہ دیکھا

    ایسے جیسے سپنا دیکھا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے