Font by Mehr Nastaliq Web

اک نور سا تا حدِ نظر پیشِ نظر ہے

شاکر القادری

اک نور سا تا حدِ نظر پیشِ نظر ہے

شاکر القادری

MORE BYشاکر القادری

    اک نور سا تا حدِ نظر پیشِ نظر ہے

    میں اور مدینے کا سفر پیشِ نظر ہے

    ہر چند نہیں تاب مگر دیکھیے پھر بھی

    وہ مطلعِ انوارِ سحر پیشِ نظر ہے

    جو میرے تخیل کے جھروکے میں کہیں تھا

    صد شکر و مقصودِ نظر پیشِ نظر ہے

    بخشش کا وسیلہ ہے ہر اک اشکِ ندامت

    کچھ خوف ہے باقی نہ خطر پیشِ نظر ہے

    اس بارگہِ ناز کا صد رنگ نظارہ

    ہر آن بہ اندازِ دگر پیشِ نظر ہے

    ہر چند سوئے کعبہ ہیں سجدے مرے لیکن

    وہ قبلۂ ہر اہلِ نظر پیشِ نظر ہے

    گو فردِ عمل میری گناہوں سے بھری ہے

    ہر لحظہ کرم ان کا مگر پیشِ نظر ہے

    کیا بام و درِ خلد نگاہوں میں جچیں گے

    فردوس کے سردار کا در پیشِ نظر ہے

    مانگی تھیں جو بادیدۂ تر میں نے دعائیں

    ایسی ہی دعاؤں کا اثر پیش نظر ہے

    شاکرؔ مجھے لمحاتِ حضوری ہیں میسر

    آرامِ دل و نورِ نظر پیشِ نظر ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے