Font by Mehr Nastaliq Web

نورِ حق نے اس طرح پیکر سنوارا نور کا

شاکر القادری

نورِ حق نے اس طرح پیکر سنوارا نور کا

شاکر القادری

MORE BYشاکر القادری

    نورِ حق نے اس طرح پیکر سنوارا نور کا

    نور گویا بن گیا ہے استعارہ نور کا

    ہے کوئی ایسا بشر اس عالمِ امکان میں؟

    سر سے پاؤں تک ہو جو اک شاہ پارا نور کا

    نور دل ہے نور سینہ نور پیکر نور جاں

    نور کا سورہ ہے گویا استعارا نور کا

    جو حجاباتِ خداوندی میں چمکا مدتوں

    جالیوں سے دیکھ آیا ہوں وہ تارا نور کا

    رات زلفوں کی بلائیں لے کے پیچھے ہٹ گئی

    سانس لے کر صبح نے صدقہ اتارا نور کا

    انشراحِ قلب و سینہ کا بیاں قرآن میں

    نور کے دریا میں گویا ہے یہ دھارا نور کا

    سرحدِ قوسین سے بھی ماورا معراج میں

    بزم ’’او ادنی‘‘ میں چمکا اک ستارا نور کا

    چاند سورج کہکشاں تارے دھنک اور روشنی

    نور کے دریوزہ گر پائیں اتارا نور کا

    ایک درِ بے بہا ہے یا ہے قطرہ نور کا

    میری پلکوں پر فروزاں ہے جو تارا نور کا

    سینہ بریاں دیدہ گریاں کیجیے مجھ کو عطا

    میرے دل پر بھی ہمیشہ ہو اجارا نور کا

    اک نگاہِ لطف فرما دیجیے ہم پر حضور

    ہم کو بھی درکار ہے بس اک اشارا نور کا

    یا رسول اللہ اپنی کاوشیں مقبول ہوں

    یہ ’’فروغِ نعت‘‘ بن جائے ادارہ نور کا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے