مرے کریم ترے لطف اور کرم کے چراغ
مرے کریم ترے لطف اور کرم کے چراغ
ازل سے مجھ کو ملے ہیں یہ چشمِ نم کے چراغ
فلاح و فوز کی ضامن ہے پیروی تیری
نشانِ خلد بریں میں ترے قدم کے چراغ
شعور و فکر کی تابندگی تمہی سے ہے
تمہارے علم سے روشن ہیں کیف و کم کے چراغ
دل و جگر میں برنگِ لہو رہے روشن
خوشا نصیب کہ عشقِ شہِ امم کے چراغ
سکندری و جمی قیصری و دارائی
عرب کے جلووں میں گم ہوگئے عجم کے چراغ
تمام عمر لکھی نعتِ مصطفیٰ شاکرؔ
اسی کے دم سے فروزاں ہیں میرے وہم کے چراغ
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.