بابِ مدحت پہ مری ایسے پذیرائی ہو
بابِ مدحت پہ مری ایسے پذیرائی ہو
لفظ خوشبو ہوں خیالات میں رعنائی ہو
ہو اگر بزم ترا نام رہے وردِ زباں
تجھ کو سوچوں جو میسر کبھی تنہائی ہو
وادئ جاں میں پڑاؤ ہو تری خوشبو کا
حجرۂ دل میں تری انجمن آرائی ہو
چاک کرتی ہیں قبا فرطِ ہوا سے کلیاں
اے صبا کوچۂ دل دار سے ہو آئی ہو
وہ تکلم کہ جسے حسنِ سماعت ترسے
وہ تبسم کہ ہر اک پھول تمنائی ہو
ناقۂ شوق اس انداز سے طے ہو یہ سفر
لے حجازی ہو تری زمزمہ صحرائی ہو
کس نے دیکھا ہے بہم شام و سحر کو شاکرؔ
ہاں اگر زلف وہ رخسار پہ لہرائی ہو
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.