بادشاہِ دو جہاں خاتمِ پیغمبراں
بادشاہِ دو جہاں خاتمِ پیغمبراں
حاکمِ جن ملک رہنمائے عاصیاں
آپ ہی کو عرش پر حق نے کر کے میہماں
ساری کائنات کا کر دیا ہے رازداں
مجھ پہ بھی نگاہِ مہر اے شفیعِ عاصیاں
بادلوں میں کفر کے کوندتی ہیں بجلیاں
فکر کچھ نہیں ہمیں حشر کے حساب کی
عاصیوں کو آپ سا مل گیا ہے مہرباں
حشر کا جب آئے دن رکھیے گا کشلؔ کو بھی یاد
اے شفیع عاصیاں اے شفیعِ عاصیاں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.