دل میں ہے یاد تیری لب پر ہے نام تیرا
دل میں ہے یاد تیری لب پر ہے نام تیرا
آسودۂ جہاں ہے اب یہ غلام تیرا
وحدانیت کا تیری منکر بھی معترف ہے
یکتائی کا ہے مظہر سارا نظام تیرا
تیری تجلیوں تک کرتا ہے رہنمائی
مہرِ منیر تیرا ماہِ تمام تیرا
گلشن کے رنگ و بو نے تیرا پتہ بتایا
غنچہ کی مسکراہٹ لائی پیام تیرا
بہتر نہیں ہے اس سے کوئی رفیقِ ہستی
یوں حرزِ جاں کیا ہے شیواؔ نے نام تیرا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.