Font by Mehr Nastaliq Web

دل میں ہے یاد تیری لب پر ہے نام تیرا

شیوہ بریلوی

دل میں ہے یاد تیری لب پر ہے نام تیرا

شیوہ بریلوی

MORE BYشیوہ بریلوی

    دل میں ہے یاد تیری لب پر ہے نام تیرا

    آسودۂ جہاں ہے اب یہ غلام تیرا

    وحدانیت کا تیری منکر بھی معترف ہے

    یکتائی کا ہے مظہر سارا نظام تیرا

    تیری تجلیوں تک کرتا ہے رہنمائی

    مہرِ منیر تیرا ماہِ تمام تیرا

    گلشن کے رنگ و بو نے تیرا پتہ بتایا

    غنچہ کی مسکراہٹ لائی پیام تیرا

    بہتر نہیں ہے اس سے کوئی رفیقِ ہستی

    یوں حرزِ جاں کیا ہے شیواؔ نے نام تیرا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے