Font by Mehr Nastaliq Web

یہی دردِ زندگی ہے اسی درد میں مزا ہے

شیوہ بریلوی

یہی دردِ زندگی ہے اسی درد میں مزا ہے

شیوہ بریلوی

MORE BYشیوہ بریلوی

    یہی دردِ زندگی ہے اسی درد میں مزا ہے

    ترا نام جب لیا ہے مرا دل تڑپ اٹھا ہے

    کوئی شاہ کارِ قدرت جسے ہر شرف ملا ہے

    نہ کبھی ترے سوا تھا نہ کہیں ترے سوا ہے

    سرِ حشر اپنا کہہ کر مری لاج رکھنے والے

    تری رحمتوں کے صدقے یہ کرم نہیں تو کیا ہے

    ہو رفیق لطف جس کا تو پھر اس کا ذکر ہی کیا

    مجھے درد دینے والے ترا غم بھی جانفرا ہے

    انہیں دے سکے جو دعوت مرے حال پر کرم کر

    اسی غم کی آرزو ہے وہی دردِ مدعا ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے