یہی دردِ زندگی ہے اسی درد میں مزا ہے
یہی دردِ زندگی ہے اسی درد میں مزا ہے
ترا نام جب لیا ہے مرا دل تڑپ اٹھا ہے
کوئی شاہ کارِ قدرت جسے ہر شرف ملا ہے
نہ کبھی ترے سوا تھا نہ کہیں ترے سوا ہے
سرِ حشر اپنا کہہ کر مری لاج رکھنے والے
تری رحمتوں کے صدقے یہ کرم نہیں تو کیا ہے
ہو رفیق لطف جس کا تو پھر اس کا ذکر ہی کیا
مجھے درد دینے والے ترا غم بھی جانفرا ہے
انہیں دے سکے جو دعوت مرے حال پر کرم کر
اسی غم کی آرزو ہے وہی دردِ مدعا ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.