Font by Mehr Nastaliq Web

یا نبی ہو گا کب بے نوا پر کرم کب مدینے سے میرا پیام آئے گا

سکندر لکھنوی

یا نبی ہو گا کب بے نوا پر کرم کب مدینے سے میرا پیام آئے گا

سکندر لکھنوی

MORE BYسکندر لکھنوی

    یا نبی ہو گا کب بے نوا پر کرم کب مدینے سے میرا پیام آئے گا

    آپ کی بارگاہِ پُرانوار میں کب سلامی کی خاطر غلام آئے گا

    دل میں مدت سے ہے آرزوئے حرم کب مدینے میں آئیں گے سرکار ہم

    کب سکوں پائے گی یہ مری چشمِ نم کب حضوری میں یہ تشنہ کام آئے گا

    دید جب ہوگی آقا کے دربار کی عید ہو جائے گی مجھ گناہ گار کی

    رنگ لائے گی پھر میری دیوانگی جذبۂ دل مرا میرے کام آئے گا

    رحمتِ مصطفیٰ کی پھر آغوش میں بہرِ رحمت بھی آئے گا پھر جوش میں

    سر بہ خم چشمِ نم ہاتھ باندھے ہوئے ان کے در پہ جب ان کا غلام آئے گا

    اپنی آنکھوں میں اشکِ ندامت لیے جائے گا جو درِ شاہِ کونین پر

    کیسا ہی عاصیِ پُر خطا ہو مگر لے کے بخشش میں اپنی انعام آئے گا

    زائرینِ مدینہ کا کیا ذکر ہے ہوں گے ملکوت بھی عالمِ وجد میں

    عالمِ کیف و مستی میں پڑھتا ہوا جب سکندرؔ درود و سلام آئے گا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے