Font by Mehr Nastaliq Web

اک غلامِ نبی کی بفضلِ خدا ہوگئی عرض منظور سرکار میں

سکندر لکھنوی

اک غلامِ نبی کی بفضلِ خدا ہوگئی عرض منظور سرکار میں

سکندر لکھنوی

MORE BYسکندر لکھنوی

    اک غلامِ نبی کی بفضلِ خدا ہوگئی عرض منظور سرکار میں

    بخت چمکا مرادِ دلی مل گئی ہم چلے اپنے آقا کے دربار میں

    اللہ اللہ یہ ان کا جود و کرم اللہ اللہ یہ ان کا لطف و کرم

    ان کی اک چشمِ رحمت سے سب مٹ گئی جتنی سوزش تھی قلبِ گنہگار میں

    بے کسی میں دوعالم کے مشکل کشا بن گئے میری کشتی کے خود ناخدا

    اس کریمی کے قربان صلِ علیٰ کیا وسیلہ ملا مجھ کو منجدھار میں

    چشم فرطِ مسرت سے پُر آب ہے روح رعبِ جلالت سے بے تاب ہے

    ایک عاصی و مجرم کی ہے حاضری تاجدارِ دوعالم کے دربار میں

    غم کے بادل چھٹے اذنِ طیبہ ملا رنجِ دوری مٹا ضعفِ فرقت گیا

    دل کی کلیاں کھلیں روح شاداں ہوئی اک سکوں آ گیا قلبِ بیمار میں

    اے سکندرؔ بہ لطفِ حبیبِ خدا بن کے ہم بلبلِ باغِ مدح و ثنا

    رب نے چاہا تو پھر چند ہی روز میں جا کے چہکیں گے طیبہ کے گلزار میں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے