Font by Mehr Nastaliq Web

جس کو وہ آستانِ نبی مل گیا جس کو وہ بارگاہِ حسیں مل گئی

سکندر لکھنوی

جس کو وہ آستانِ نبی مل گیا جس کو وہ بارگاہِ حسیں مل گئی

سکندر لکھنوی

MORE BYسکندر لکھنوی

    جس کو وہ آستانِ نبی مل گیا جس کو وہ بارگاہِ حسیں مل گئی

    میرا ایمان ہے اس مسلمان کو رہ کے دنیا میں خلدِ بریں مل گئی

    ان کے روضے کا دیدار جس کو ہوا اس کو دیدارِ خیرالبشر ہوگیا

    ان کا دیدار جس کو میسر ہوا مغفرت کی سند باالیقیں مل گئی

    ان کے کوچے کی وہ کیف آور فضا ان کے روضے کی وہ روح پرور ضیا

    قلب کا گوشہ گوشہ منور ہوا روح کو تازگی ہمنشیں مل گئی

    جب خطا کار توبہ پر مائل ہوا اور دربارِ طیبہ میں حاضر ہوا

    مثل مادر کے آغوش کھولے ہوئے رحمتِ سیدالمرسلین مل گئی

    عشقِ محبوب میں جو فنا ہوگیا موت اس کو بہ شکلِ بقا مل گئی

    بخت کا بھی سکندرؔ سکندر ہے وہ جس کو طیبہ میں دو گز زمیں مل گئی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے