Font by Mehr Nastaliq Web

اک بے زر و نادار کو قدموں میں بلایا

سکندر لکھنوی

اک بے زر و نادار کو قدموں میں بلایا

سکندر لکھنوی

MORE BYسکندر لکھنوی

    اک بے زر و نادار کو قدموں میں بلایا

    یہ شانِ کرم شاہِ امم یاد ہے اب تک

    سرکار کی اس شانِ کریمی کے تصدق

    دیکھا ہے کئی بار حرم یاد ہے اب تک

    جب بھی میرے آقا نے مدینے میں بلایا

    رکھا میرا ہر بار بھرم یاد ہے اب تک

    در پر بھی بلایا میری جھولی بھی بھری ہے

    محتاج کو یہ لطف و کرم یاد ہے اب تک

    میں سوچ رہا تھا درِ جبریل پر جا کر

    سر رکھوں میں پہلے کہ قدم یاد ہے اب تک

    سجدوں میں وہ لذت تھی کہ دل جھوم رہا تھا

    جب سر تھا درِ پاک پر خم یاد ہے اب تک

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے