Font by Mehr Nastaliq Web

مدینے کے والی دو عالم کے داتا میری بھی نظر سوئے طیبہ لگی ہے

سکندر لکھنوی

مدینے کے والی دو عالم کے داتا میری بھی نظر سوئے طیبہ لگی ہے

سکندر لکھنوی

MORE BYسکندر لکھنوی

    مدینے کے والی دو عالم کے داتا میری بھی نظر سوئے طیبہ لگی ہے

    میں محتاج ہوں اک نگاہِ کرم کا تمہارے کرم پر میری زندگی ہے

    تمہارے ہی در سے ہے میرا گزارا تمہارے ہی دربار کا ہوں میں منگتا

    جو تم سے نہ مانگوں تو پھر کس سے مانگوں تمہارا تو سارا گھرانہ سخی ہے

    مدینے کی راہوں پہ صدقے دل و جاں مدینے کی گلیوں پہ سو جان قرباں

    نجومِ فلک کو کہاں یہ میسر مدینے کے ذروں میں جو دلکشی ہے

    یہاں رہ کے جینا ہے مرنے سے بدتر وہاں جا کے مرنا ہے جینے سے بہتر

    میسر جو ہو ان کے قدموں میں رہ کر وہی زندگی اصل میں زندگی ہے

    ہزاروں ہی میخوار طیبہ میں جا کر شب و روز پیتے ہیں عرفاں کے ساغر

    نہیں کوئی آتا ہے تشنہ سکندرؔ یہ ساقیِ کوثر کی دریا دلی ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے