Font by Mehr Nastaliq Web

ان کے دربارِ اقدس میں جب بھی کوئی

سکندر لکھنوی

ان کے دربارِ اقدس میں جب بھی کوئی

سکندر لکھنوی

MORE BYسکندر لکھنوی

    ان کے دربارِ اقدس میں جب بھی کوئی

    غم زدہ آ گیا تشنہ کام آگیا

    غم غلط ہوگئے معصیت دھل گئی

    مغفرت عافیت کا پیام آگیا

    دل کو لذت ملی چشم پُرنم ہوئی

    جسم و جاں آگئے عالمِ وجد میں

    ضبط صدقے ہوا ہوش قرباں ہوئے

    جب زباں پر محمد کا نام آگیا

    کشتئ نوح میں نارِ نمرود میں

    بطن ماہی میں یونس کی فریاد پر

    آپ کا نامِ نامی اے صلِ علیٰ

    ہر جگہ ہر مصیبت میں کام آگیا

    لاڈلے تھے خدا کے کلیمِ خدا

    فرق ہے پر کلیم اور محبوب میں

    وہ دیدار کرنے گئے طور پر

    ان کے گھر خود خدا کا پیام آگیا

    بزم کو نین ساری سنوری گئی

    عرش کی چھت زمیں کی صفیں بچھ گئیں

    انبیا آگئے مرسلیں آگئے

    مقتدی آچکے تو امام آگیا

    ذکرِ ساقئ کوثر سے اے ہم نشیں

    دل کو تسکین و فرحت کچھ ایسی ملی

    جیسے تسنیم خود سامنے آگئی

    ہاتھ میں جیسے کوثر کا جام آگیا

    یہ سکندؔر بھی اے شاہِ جن و بشر

    لے کے نعتوں کا نذرانہ مختصر

    آپ کی محفلِ پاک میں یا نبی

    آج پھر بہرِ عرضِ سلام آگیا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے