Font by Mehr Nastaliq Web

ہم مدینے گئے اور آ بھی گئے لب پہ طیبہ کی ایک داستان رہ گئی

سکندر لکھنوی

ہم مدینے گئے اور آ بھی گئے لب پہ طیبہ کی ایک داستان رہ گئی

سکندر لکھنوی

MORE BYسکندر لکھنوی

    ہم مدینے گئے اور آ بھی گئے لب پہ طیبہ کی ایک داستان رہ گئی

    جسم خاکی ہمارا یہاں آ گیا روح انوار میں گم وہاں رہ گئی

    مطمئن تھی درِ مصطفیٰ پر نظر شاد تھے ارضِ بطحیٰ میں قلب و جگر

    کیسے بھولوں مدینے کے شام و سحر یاد ہی ان کی تسکینِ جاں رہ گئی

    اب نمازوں میں وہ کیف و لذت کہاں اب دعاؤں میں وہ سوز و رقت کہاں

    چشم میں جالیوں کی ضیا رہ گئی دل میں یادِ ریاضِ جناں رہ گئی

    یہ جنوں تھا جو سوئے حرم لے گیا عقل مانع رہی ہوش روکا کئے

    جذبۂ عشق نے طیبہ پہنچا دیا مفلسی بے بسی نوحہ خواں رہ گئی

    جب سکندرؔ مدینے سے رخصت ملی صبر رخصت ہوا ضبط رخصت ہوا

    ہوش رخصت ہوئے عقل رخصت ہوئی سب گئے صرف لب پہ فغاں رہ گئی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے