Font by Mehr Nastaliq Web

کیا بتاؤں کہ طیبہ میں کیا مل گیا

سکندر لکھنوی

کیا بتاؤں کہ طیبہ میں کیا مل گیا

سکندر لکھنوی

MORE BYسکندر لکھنوی

    کیا بتاؤں کہ طیبہ میں کیا مل گیا

    بے نوا کو دلی مدعا مل گیا

    دین و دنیا کی دولت اسے مل گئی

    جس کو دربارِ خیرالوریٰ مل گیا

    کیف ایسا ریاضِ جناں میں ملا

    روح کو بندگی کا مزا مل گیا

    کی زیارت جو روضے کی دل نے کہا

    اب شفاعت کا اک آسرا مل گیا

    اے سکندرؔ جسے مصطفیٰ مل گئے

    حق تو یہ ہے کہ اس کو خدا مل گیا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے