Font by Mehr Nastaliq Web

میرے دل میں ہے یادِ محمد میرے ہونٹوں پہ ذکرِ مدینہ

سکندر لکھنوی

میرے دل میں ہے یادِ محمد میرے ہونٹوں پہ ذکرِ مدینہ

سکندر لکھنوی

MORE BYسکندر لکھنوی

    میرے دل میں ہے یادِ محمد میرے ہونٹوں پہ ذکرِ مدینہ

    تاجدارِ حرم کے کرم سے آ گیا زندگی کا قرینہ

    میں غلامِ غلامانِ احمد میں سگِ آستانِ محمد

    قابلِ فخر ہے موت میری قابلِ رشک ہے میرا جینا

    دل شکستہ ہے میرا تو کیا غم اس میں رہتے ہیں شاہِ دو عالم

    جب سے مہماں ہوئے ہیں وہ دل میں، دل مرا بن گیا ہے مدینہ

    ہر خطا پر مری چشم پوشی ہر طلب پر عطاؤں کی بارش

    مجھ گناہ گار پر کس قدر ہیں مہرباں تاجدارِ مدینہ

    مجھ کو طوفاں کی موجوں کا کیا ڈر یہ گزر جائیں گی رخ بدل کر

    ناخدا ہیں مرے جب محمد کیسے ڈوبے گا میرا سفینہ

    دولتِ عشق سے دل غنی ہے میری قسمت ہے رشکِ سکندرؔ

    مدحتِ مصطفیٰ کی بدولت مل گیا ہے مجھے یہ خزینہ

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے