عجب قادرِ پاک کی ذات ہے
عجب قادرِ پاک کی ذات ہے
کہ سب ہے نفی اور اثبات ہے
اس کی صفت آپ وہ بے نظیر
کیا ہے علیٰ کل شیٔ قدیر
بلندی و پستی کوں پیدا کیا
ظہور تجلی ہویدا کیا
بنایا زمین و آسماں بے مثال
کیا غرب و شرق اور جنوب و شمال
دیا چاند و سورج کوں نور و ضیا
فلک پر ستارے کیا خوش نما
عجب واقفِ عالم غیب ہے
جتے عیب ہیں سب سے بے عیب ہے
عجب صاحبی ہے خداوند کی
نہیں ہے رسائی خرد مند کی
علیم و بصیر اس کی ہے شان میں
قضا اور قدر اس کے فرمان میں
جو چاہا سو ایک پل میں پیدا کیا
جو پیدا نہیں سو ہویدا کیا
کیا جنت ابرار کے واسطے
جہنم گنہگار کے واسطے
دو جگ کا وہ پیدا کرن ہار ہے
اسی کو بزرگی سزاوار ہے
بجز ذاتِ حق نہیں کسی کوں بقا
ووہی ہے بقا ماسوا سب فنا
- کتاب : دکن کے ممتاز صوفی شعرا (Pg. 199)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.