تعالی اللہ شہرہ ہو رہا ہے ان کی آمد کا
دلچسپ معلومات
زیرِ نظر کلام خواجہ نور محمد چشتی مہاروی کے سالانہ عرسِ مقدس کے موقع پر بتاریخ 17 مارچ 1935ء، محلہ پیپلی کاٹیان، جئے پور میں منعقد ہونے والے ایک طرحی مشاعرے میں پیش کیا گیا، اس مشاعرے کے لیے مصرعِ طرح "ظہورِ دو جہاں ہے پرتو انوارِ محمد کا" مقرر کیا گیا تھا، بعد ازاں اس مشاعرے میں شریک شعرا کے تمام کلام کو "مظہرِ معرفت" کے نام سے شائع کیا گیا۔
تعالی اللہ شہرہ ہو رہا ہے ان کی آمد کا
یہ محفل ہے کہ یہ دربار ہے آمد بر آمد کا
وہ ہیں مسند نشیں مسند نشینی اس کو کہتے ہیں
شہنشاہی نے برسوں منہ تکا ہے جن کی مسند کا
الٰہی وہ بشر ہو کر گماں سے دور رہتے ہیں
معمہ ہی نہیں کھلتا ترے اسرارِ بے حد کا
ہوئے نورٌ علی نور اس لیے دونوں جہاں صوفیؔ
ظہور دو جہاں ہے پرتوا نور محمد کا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.