Font by Mehr Nastaliq Web

رکھ لیں وہ جو در پر مجھے دربان وغیرہ

سلطان محمود

رکھ لیں وہ جو در پر مجھے دربان وغیرہ

سلطان محمود

MORE BYسلطان محمود

    رکھ لیں وہ جو در پر مجھے دربان وغیرہ

    پھر کیا ہیں مرے سامنے سلطان وغیرہ

    خیرات ملی ہو جنہیں سرکار کے در سے

    دنیا کے اٹھاتے نہیں احسان وغیرہ

    آقا کی چٹائی کی تو وہ شان ہے واللہ

    بس نام کے ہیں تختِ سلیمان وغیرہ

    تاثیر لعاب دہنِ پاک ہے ایسی

    سر قدموں میں رکھ دیتے ہیں لقمان وغیرہ

    بننا ہے مجھے خاکِ رہِ شہرِ مدینہ

    بن کر مجھے رہنا نہیں مہمان وغیرہ

    مل جائے جسے دشتِ عرب سَیر کی خاطر

    کیوں مانگیں وہ جنت کے گلستان وغیرہ

    آئیں تو سہی آپ کے منگتے کے مقابل

    جتنے بھی زمانے کے ہیں سلطانؔ وغیرہ

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے