نورِ یزداں ہے سراپا خواجۂ اجمیر کا
دلچسپ معلومات
منقبت در شان خواجہ معین الدین حسن چشتی (اجمیر-راجستھان)
نورِ یزداں ہے سراپا خواجۂ اجمیر کا
ہے مقدر مجھ کو صدقہ خواجۂ اجمیر کا
مجھ کو حاصل ہے سہارا خواجۂ اجمیر کا
دل بنا ہے ذوق خانہ خواجۂ اجمیر کا
دو جہاں میں بول بالا خواجۂ اجمیر کا
عرش تک جاتا ہے رتبہ خواجۂ اجمیر کا
بے کسوں کی بے بسی کو مل گیا ہے اک سکوں
جب سے دیکھا در سہانا خواجۂ اجمیر کا
پنجتن کے باغ کا وہ پھول ہے سب سے جدا
جھوم اٹھتا ہے دوانہ خواجۂ اجمیر کا
آستاں پر آ گیا جو سر جھکائے آج بھی
اس نے پایا ہے خزانہ خواجۂ اجمیر کا
امجدؔ اب اس کی عطا کا کیا کروں میں شکریہ
دل میں روشن ہے ستارہ خواجۂ اجمیر کا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.