مصطفیٰ کی جو حسیں ذات ہے سبحان اللہ
مصطفیٰ کی جو حسیں ذات ہے سبحان اللہ
رحمتوں کی ہی یہ برسات ہے سبحان اللہ
دیکھ کر چشمِ عنایت کا کرم عالم پر
فضل و احساں کی نئی بات ہے سبحان اللہ
طالعِ دہر چمک اٹھتا ہے اس چوکھٹ پر
آستاں پر جو مناجات ہے سبحان اللہ
حاجیو! لاؤ ذرا خاکِ دیارِ احمد
عاشقوں کے لیے سوغات ہے سبحان اللہ
ان کے در کی جو گدائی ہو میسر مجھ کو
شاہِ کونین کی خیرات ہے سبحان اللہ
مانگنے والوں کو سلطان بنا دیتی ہے
درِ آقا کی یہ برکات ہے سبحان اللہ
نعتِ سرور میں گہر جتنے بچھائے امجدؔ
فکرِ عالی کے یہ نغمات ہیں سبحان اللہ
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.