ظلِ حق نورِ حبیبِ کبریا دیوے میں ہے
دلچسپ معلومات
منقبت در شان حاجی وارث علی (دیوہ-بارہ بنکی)
ظلِ حق نورِ حبیبِ کبریا دیوے میں ہے
وارثِ ارثِ علی مرتضیٰ دیوے میں ہیں
مصطفیٰ و مرتضیٰ و مجتبیٰ خیرالنسا
اور حسینِ پاک کا اک لاڈلا دیوے میں ہے
عابد و باقر محمد جعفرِ صادق کا چین
نورِ چشمِ کاظمِ موسیٰ رضا دیوے میں ہے
حضرتِ جواد اور مولیٰ نقی و عسکری
قائمِ آلِ محمد کی عطا دیوے میں ہے
قاسمِ ماہِ حسن قمرِ بنی ہاشم کا نور
سر سے لے کر پاؤں تک جلوہ نما دیوے میں ہے
متصل ہے جس کی کڑیاں اہلِ بیتِ پاک سے
اہلِ بیتِ پاک کا وہ سلسلہ دیوے میں ہے
ہے کلامِ پاک میں تطہیر کا روشن بیاں
اس بیاں کی روشنی تو انما دیوے میں ہے
مشکلیں دم توڑتی ہیں آ کے دیویٰ دیکھ لو
روضۂ ابنِ علی مشکل کشا دیوے میں ہے
ہے درودِ پاک میں آلِ نبی کی شان جو
زینتِ صلِ علی وہ رونما دیوے میں ہے
محوِ حیرت ماہتابِ شب ہے جس کو دیکھ کر
حسن کے افلاک کا وہ مہ لقا دیوے میں ہے
کیوں پھرے ہے در بدر سر پر مصیبت کو لیے
جا ذرا دیوے کو جا مولیٰ ترا دیوے میں ہے
سورۂ والشمس کی ساری تجلی ہے یہاں
مظہرِ شمس الضحىٰ صلِ علیٰ دیوے میں ہے
ہیں چراغِ خاندانِ پنجتن وارث علی
یادگارِ پنجتن جلوہ نما دیوے میں ہے
سیرتِ مثلِ نبی تو صورتِ عینِ علی
مصطفیٰ و مرتضیٰ کا آئینہ دیوے میں ہے
ان سبھی اشعار کا مطلب یہی ہے جان لو
پنجتن کا کل اثر کل مرتبہ دیوے میں ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.