دعا میں ہو مری اتنا اثر غریب نواز
دلچسپ معلومات
منقبت در شان غریب نواز خواجہ معین الدین حسن چشتی (اجمیر-راجستھان)
دعا میں ہو مری اتنا اثر غریب نواز
حضورِ پاک لیں آ کر خبر غریب نواز
شرابِ حبِ رسولِ خدا و آلِ نبی
ہے تیرے در سے رواں ہر پہر غریب نواز
جسے نصیب ترا سنگِ آستانہ ہو
پھرے وہ کیوں ہی بھلا دربدر غریب نواز
کرم کی ایک نظر میری سمت ہو جائے
اے خواجہ عثماں کے نورِ نظر غریب نواز
خدا کی شان ہو شانِ رسولِ اکرم ہو
ہو آپ ہی تو علی کے گہر غریب نواز
تمہیں ہے واسطہ زہرا بتول عذرا کا
کرو نہ حال پہ میرے نظر غریب نواز
جو چاہتے ہو ملے قربِ حق تعالیٰ تو
کرو نہ ورد یہ شام و سحر غریب نواز
حسینی لاڈلے مولیٰ حسن کے صدقے میں
قلم کا چاہیے بس اک ہنر غریب نواز
ترے دیار کے ہر ایک ایک ذرے پر
ہاں ناز کرتا ہے شمس و قمر غریب نواز
تری ہی ذات سے کل ہند کے علاقے میں
ہے پھیلا دینِ خدا کس قدر غریب نواز
تمہی ہو وارثِ آلِ عبا معین الدین
حبیبِ ربِ جہاں کے پسر غریب نواز
ترے دیار میں دیکھا ہے یہ معینِ جہاں
جھکا ہی رہتا ہے شاہوں کا سر غریب نواز
رسولِ پاک سے لے کر معینِ دیں تک
ازل سے ہی تو ہے ہاں گھر کا گھر غریب نواز
کھلیں گے سارے ہی اسرارِ دو جہاں ہم پر
ملے جو ہم کو تری رہ گزر غریب نواز
معینی نسبتیں جس کو حسنؔ ہوئی حاصل
اسے ہو کیسا ہی عقبیٰ کا ڈر غریب نواز
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.