اٹھنے والا ہے جنازه حیدرِ کرار کا
اٹھنے والا ہے جنازه حیدرِ کرار کا
رو رہا ہے سارا کنبہ حیدرِ کرار کا
زینب و کلثوم بھی محوِ بکا ہیں دیکھ کر
اپنی آنکھوں سے جنازه حیدرِ کرار کا
ہے یتیموں پر قیامت کا یہ منظر ہائے ہائے
اٹھ گیا بچوں سے سایہ حیدرِ کرار کا
کربلا کی ابتدا ہو گئی دیکھو ذرا
تر ہوا جوں ہی عمامہ حیدرِ کرار کا
مہدیِ آخر کو بھی اور سارے ہی سادات کو
دو سبھی مل کر کے پرسہ حیدرِ کرار کا
بہنیں کہتی تھیں جنازہ گھر میں ہی تم روک لو
میرے بهيا میرے بابا حیدرِ کرار کا
مؤمنو مل کے دو کاندھا اس جنازے کو سبھی
ہے جنازہ کل کے مولیٰ حیدرِ کرار کا
رو رہا ہے غم میں مولیٰ کے حسنؔ تیرا قلم
تو نے لکھا ہے جو نوحہ حیدرِ کرار کا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.