نگاہِ حبیبِ خدا چاہتا ہوں
نگاہِ حبیبِ خدا چاہتا ہوں
بس اس کے سوا اور کیا چاہتا ہوں
ہاں عقبیٰ میں دنیا میں دونوں جگہ پر
کرم کا ترے آسرا چاہتا ہوں
نقاب اپنا الٹو روخِ والضحیٰ سے
تمہیں دیکھنا میں ذرا چاہتا ہوں
زمانے سے کچھ بھی نہیں ہے غرض پر
مدینے میں دو گز جگہ چاہتا ہوں
مریضِ زیارت ہوں میرے مسیحا
ترے دید کی میں دوا چاہتا ہوں
مرے دل کی کوئی نہ حسرت ہو باقی
کرم کی میں ایسی عطا چاہتا ہوں
درِ شاہِ مسلم پہ جا کر حسنؔ میں
خدا کے میں تیری رضا چاہتا ہوں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.